...
Skip to content Skip to main navigation Skip to footer

مئیر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے ایم ڈی سالڈ ویسٹ کےہمراہ ضلع وسطی میں کچرا اٹھانے والی نئی مشینری کا افتتاح کیا،ڈپٹی مئیر و دیگر علاقہ معززین موجود ہیں۔ضلع وسطی میں صفائی ستھرائی کے لیے سو منی ٹیپر،دو سو چالیس لیڑز کے 2300 ڈسٹ بن 0.8کیوبک کے دو سو پچاس ڈسٹ بن کا اضافہ کیا گیا ہے

میئر کراچی بیر سٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ مثبت سوچ لیکر آگے بڑھ رہے ہیں ماضی میں ہر چیز پر چائنا کٹنگ ہوئی جس سے شہر کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے،کراچی میں چودہ ہزار ٹن کچرا یومیہ اٹھایا جاتا ہے، ضلع وسطی میں صفائی ستھرائی کے لیے نئ مشینری اور سامان فراہم کر رہے ہیں جس سے عملے کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا، ان خیالات کا اظہار مئیر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے سندھ سالیڈویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، ڈپٹی مئیر کراچی سلمان عبداللہ مراد ایم ڈی سالیڈویسٹ بورڈ طارق نظامانی، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما سردار خان اور متعلقہ افسران بھی اس موقع پر موجود تھے، مئیر کراچی نے کہا کہ جو شخص اختیارات ہمیں دے رہا تھا وہ خود اختیار مانگ رہا ہے، جو گورنر صاحب کا حال ہے وہی گورنر ہاؤس کے باہر لگی ہوئی امید کی گھنٹی کا حال ہے، ہم کچرے سے پچاس میگا واٹ بجلی،گیس اور آر ڈی ایف کے پراجیکٹ پر کام کر رہے ہیں، کراچی میں روزانہ چودہ ہزار کچرا پیدا ہو رہا ہے،مختلف علاقوں سے دس ہزار کچرا اٹھانے کی زمہ داری سندھ سالیڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی ہے، چار ہزار کچرا دیگر مختلف ادارے اٹھاتے ہیں، دو سو چالیس لیڑز کے 2300 ڈسٹ بن، دو سو پچاس 0.8کیوبک کے ڈسٹ بن بھی ضلع وسطی کو دئیے جارہے ہیں، ضلع وسطی میں صفائی ستھرائی کے لیے سو منی ٹیپر دئیے جارہے ہیں،
مئیر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ 1988 سے لیکر 2024 تک اس ضلع میں ایک سیاسی جماعت کا کنٹرول رہا ہے، لوگ اس ضلع سے اٹھ کر کہاں کہاں چلے گئے مگر یہ ضلع پیچھے رہ گیا، تاریخ میں پہلی بار کراچی کی میئر شپ پاکستان پیپلزپارٹی کو ملی، بلاول بھٹو نے کراچی والوں سے وعدہ کیا تھا، کراچی والوں کے مسائل کا حل پیپلزپارٹی کے منشور میں ہے، بلاول بھٹو کی سربراہی میں کاموں کا سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا، کیسے وسائل کو اس شہر کی بہتری پر خرچ کیا جا سکتا ہے، بلا تفریق شہر کے تمام اضلاع میں کام جاری ہے، ڈسٹرکٹ،کورنگی،وسطی ملیر، کیماڑی میں بھی کام جاری ہے، میئر کراچی نے کہا کہ مثبت سوچ کو لیکر آگے بڑھ رہے ہیں، کچرا اٹھتا ہوااب نظرآرہاہے، کچرے سے گٹر کے ڈھکن بنانے کے منصوبے پر بھی کام کا آغاز کر دیا ہے، اگر کچرے کوروز نہ اٹھائیں تو شہر میں گندگی ہوگی، ہمارا وعدہ ہے اختیارات اور وسائل کا رونا نہیں روئیں گے، ہم ان لوگوں میں سے نہیں جو کاغذ لکھ کر کاغذ پھینک دیں، جو لوگ کہتے ہیں شہر قائد میں کام نہیں ہو رہا ہے یہ انکے لیے جواب ہے، ایک زمانے میں شہر میں پتہ نہیں ہوتا تھا کون کیا کام کرے گا، غیر قانونی کچرے اٹھانے والوں کیخلاف کارروائی ہوتی ہے تو ہماری سینیٹری ورکرز کو مارا جاتا ہے، غیر قانونی کچرا اٹھانے والوں سے پوچھا جائے یہ کہاں کچراپھینکتے ہیں، گھروں سے جو لوگ کچرا اٹھاتے ہیں اس کا تعلق حکومت سے نہیں ہے، شہر قائد میں دس سے گیارہ ہزار ٹن کچرا اٹھا کر کسی نالے میں نہیں پھینکا جاتا، انہوں نے کہا کہ کل بھی اینٹی انکروچمنٹ کے عملے نے کارروائی کی تو مافیا آ گئی، یہ شہر ہوٹل اور پتھارے والوں کا نہیں ہے، اپنے بزرگوں سے سنا ہے کراچی شہر میں آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے، کل ایک ویڈیو آئی بندہ گیا مسائل حل کروانے امید کی گھنٹی پر تو اس کی موٹر سائیکل چوری ہو گئی، گورنر ہاؤس کے عملے نے کہا کہ جاؤ پولیس میں رپورٹ کرواؤ، انہوں نے کہا کہ شہری 1128 پر کال کریں ٹیم آپ کو رسپانس دے گی، کل بھی کمشنر کراچی اور ڈی آئی جی ٹریفک سے تمام معاملے پر بات کی ہے، روڈ ایکسیڈنٹ میں جو زیادہ اموات ہوئی 54 فیصد موٹر سائیکل والے تھے، شہری تیزی سے موٹر سائیکل چلانے میں احتیاط کریں لاہور،ساہیوال اور بہاولنگر موٹر وے اربوں روپے میں بنائے جائیں لیکن حیدرآباد سے سکھر موڑ وے کے لیے فنڈز مختص نہیں کئے جاتے ، میئر کراچی بیر سٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ انشاء اللہ اگلے سال بھی کام کر کے دکھائیں گے، جو لوگ کہتے ہیں اس شہر میں کام نہیں ہو رہا ہے یہ اس کا جواب ہے، وہ لوگ جو دعوے بہت کرتے ہیں وعدوں کوپوراکریں، ہمارا ٹارگٹ یہ ہے کہ سب مل کر کام کریں،تاکہ عوام کو سہو لیات میسر آئیں